دستوری حقوق سلب کرنے اور یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوششوں پر اظہار تشویش
تجویز نمبر 08
بموقع اجلاس مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند۔ 28،29/ مئی 2022دیوبند
پیشکش: پروفیسر نعمان صاحب شاہ جہاں پوری۔
مسلم پرسنل لاء میں جو اُمور شامل ہیں، مثلاً:شادی، طلاق، خلع،وراثت وغیرہ وہ کسی سوسائٹی، شخصی یا گروہ کے بنائے ہوئے نہیں ہیں، نہ وہ تہذیب اور رسم و رواج کے معاملات ہیں، بلکہ وہ بھی نماز، روزہ، حج وغیرہ کی طرح مذہبی احکام کا حصہ ہیں اور قرآنِ کریم واحادیث شریفہ سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ اِس لیے اِسلام سے ثابت شدہ قوانین، یا احکا م میں کسی بھی طرح کی تبدیلی،یا اس پر عمل کرنے سے کسی کو روکنا؛ دین اسلام میں صریح مداخلت اور دستور ہند کی دفعہ25 میں دی ہوئی ضمانتوں کے خلاف ہے۔
لیکن موجودہ سرکار یکساں سول کوڈ لاکر مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنا چاہتی ہے اور سابقہ حکومتوں کی یقین دہانیوں اور وعدوں کو پس پشت ڈال کر ملک کے آئین کی اصل روح کو نظر انداز کررہی ہے۔
جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس حکومت ہند کو متنبہ کرتا ہے کہ مسلمان اِسلامی اَحکامات میں کسی قسم کی تبدیلی ہرگز قبول نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب دستور ہند کی ترتیب عمل میں آئی، تو بنیادی حقوق کے تحت واضح اور صریح الفاظ میں یہ ضمانت دی گئی کہ ملک کے ہر شہری کو آزادی ض میر اور آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر کاربند رہنے اورتبلیغ و تعلیم کا حق حاصل ہے۔ اِس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ آئین ہند کی بنیادی دفعات کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے سلسلے میں واضح آرڈینیس جاری کیا جائے۔
اگر حکومت یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کرے گی، تو مسلمانانِ ہند اور دیگر طبقات اِس عظیم ناانصافی کو برداشت نہیں کریں گے، اور اس کے لیے دستوری اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے ہرطرح کے اقدامات پر مجبور ہوں گے۔
اس موقع پر جمعیت علمائے ہند مسلمانان ہند کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھتی ہے کہ شریعت میں مداخلت کی راہ اسی وقت ہموار ہوتی ہے، جب مسلمان بذات خود شریعت پر عمل کرنے میں مستعد نہ ہوں۔ اگر مسلمان اپنی شریعت کے تمام احکام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے مستعد رہیں، تو کوئی قانون ان کو اس سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے تمام مسلمان شریعت اسلامیہ پر پوری طرح ثابت قدم رہیں اور مایوسی و مرعوبیت کے شکار نہ ہوں۔