نئی دہلی ، 8 اگست 2024
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے وقف ایکٹ میں مجوزہ ترمیمات کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج پارلیامنٹ میں جو ترمیمات پیش کی گئیں ، وہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس کے ذریعہ حکومتی اداروں کو غیر ضروری مداخلت کا موقع ملے گا، جس سے وقف کی اصلی حیثیت اور خدا کی ملکیت کا تصور پامال ہوگا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ وقف ایکٹ کی دفعہ 40 کو ختم کرنا اور وقف ٹریبونل کے بجائے ضلع کلکٹر کو وقف جائیداد کے عنوانات اور قبضے سے متعلق مسائل اور تنازعات کو ریوینیو قوانین کے مطابق حل کرنے کا اختیار دیا جانا در حقیقت وقف بورڈ کو کالعدم کرنےکے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ باعث تعجب ہے کہ جب کسی زمین پر سرکار کا قبضہ ہو تو اس کی ملکیت کا فیصلہ بھی کلکٹر کے ذریعہ کیا جائے گا ، ایسی صورت میں منصف اور مدعی دونوں سرکا ر ہی ہوگی ۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ فرقہ پرست عناصر نے وقف ایکٹ کو ختم کرنے کی جو مہم چلائی تھی ، موجودہ سرکار ان لوگوں کے ناپاک خیالات سے متاثر ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اس طرح کا اقدام سپریم کورٹ کی طے کردہ ہدایات اور آئین ہند کی دفعہ 26 کی خلاف ورزی ہے۔ مولانا مدنی نے پیٹیشن ایکٹ 1963 سے وقف جائیدادوں کو حاصل تحفظ کے خاتمے، وقف بائی یوزر اور وقف علی الاولاد کو ختم کرنے کی تجویز کو بھی بد نیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔
وقف جائیدادوں کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مولانا مدنی نے مزید کہا کہ وقف جائیدادیں خدا کی ملکیت ہیں، یہ کسی حکومت یا اقتدار اعلی کے تصرف اور قبضے میں نہیں لائی جاسکتیں، نیز ان کے مقاصد بھی طے ہیں، جن کی ہدایات اسلامی تعلیمات میں دی گئی ہیں ، اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وقف جائیدادوں کا انتظام و اختیار وقف بورڈ کے پاس ہی رہے اوراس میں مسلم اسکالر کی نمائندگی بھی برقرار رہے تا کہ اوقاف کے تقدس اور مقصد کو برقرار رکھا جا سکے۔
مولانا مدنی نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ مجوزہ ترمیمات کو واپس لے اور تمام اسٹیک ہولڈرز ، بشمول مذہبی رہنماؤں اوروقف انتظامیہ کے اداروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کرے۔ انھوں نے کہا کہ قانون میں ترمیم یا تبدیلی کوئی ممنوع چیز نہیں ہے، لیکن مجوزہ ترمیمات کے بعض پہلو وقف منشا کے خلاف ہیں ، اس لیے وقف جائیدادوں کی خود مختاری کو محفوظ رکھا جائے اور کسی بھی تبدیلی کو مذہبی طبقات اور مسلم اداروں کی اتفاق رائے سے انجام دیا جائے ۔ مولانا مدنی نے سیاسی پارٹیوں اور تمام متعلقہ شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ان مجوزہ ترمیمات کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور مذہبی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کے لئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔